16 فروری 2014 - 20:30
وزيرخارجہ: ايران اور پانچ جمع ايک کے مذاکرات

ايران کے وزير خارجہ اور جوہري مذاکراتي ٹيم کے ديگر ارکان، چھے بڑي طاقتوں کے گروپ، پانچ جمع ايک کے ساتھ حتمي جوہري معاہدے کے حصول پر پات چيت کي غرض سے ويانا پہنچ گئے ہيں.

ابنا: وزيرخارجہ محمد جواد ظريف کے ساتھ ويانا جانے والي مذاکراتي ٹيم ميں، قانوني اور عالمي امور ميں نائب وزير خارجہ سيد عباس عراقچي اور يورپ و امريکہ کے امور ميں وزارت خارجہ کے ڈائريکٹرجنرل مجيد تخت روانچي بھي شامل ہيں-ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے وفود کے درميان  منگل سے ويانا ميں قائم اقوام متحدہ کے يورپي ہيڈ کوارٹر ميں حتمي جوہري معاہدے کے حصول کي غرض سے مذاکرات کے مفصل، فني اور پيچيدہ دور کا آغاز ہورہا ہے-توقع  ہے کہ يہ مذاکرات سب کي جيت کي  پاليسي کے تحت ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کو کسي حتمي سمجھوتے کي جانب لے جانے ميں کامياب رہيں گے-اگر ايران اور پانچ جمع ايک گروپ تہران کے جوہري پروگرام کے بارے ميں مغربي ملکوں کے کھڑے کردہ طويل بحران کو حل کرنے کے لئے کسي جامع اتفاق رائے تک پہنچ جاتے ہيں تو اسے مذاکرات کي کاميابي قرار ديا جائے گا-

ليکن اس مقصد کے حصول کے لئے انتہائي کٹھن مرحلہ عبور کرنا ہوگا- مذاکرات کا سب سے اہم مسئلہ يورینيئم کي افزودگي کا معاملہ ہے اور جديد ترين اور ترقي يافتہ سينٹري فيوج مشينوں کا استعمال اور اراک کے ہيوي واٹر ري ايکٹر کي سرگرميوں رہنے  کا معاملہ مذاکرات کے اہم ترين موضوعات ميں شامل ہے-

ايران کے وزير خارجہ محمد جواد ظريف نے امريکي حکام کے حاليہ بيانات کے جواب ميں واضح کرديا ہے کہ ايران ايٹمي ٹيکنالوجي کے معاملے پر کوئي مذاکرات نہيں کرے گا-

ايران کي مذاکراتي ٹيم کے ايک رکن حميد بعيدي نژاد نے بھي کہا ہے کہ ايران کبھي اس بات کو قبول نہيں کرے گا کہ اسے نئي اور جديد ترين سينٹري فيوج مشينوں کے استعمال سے محروم کرنے کي کوشش کي جائے-  انہوں نے کہا کہ ہم  اراک کے ہيوي واٹر ري ايکٹر کو مکمل کرنے پر زور ديتے ہيں تاہم انہوں نے کہا کہ تہران اس بارے ميں مغربي ملکوں کي جانب سے اٹھائے جانے والے شکوک و شبہات دور کرنے کي غرض سے پيش کي جانے والے تجاويز پر غور کرنے کے لئے تيار ہے-   

ايران اور پانچ جمع ايک گروپ  نے جوبيس نومبر دوہزار تيرہ کو جنيوا ميں ايک عبوري معاہدے پر دستخط کئے تھےجس پر بيس جنوري سے عملدرآمد شروع کرديا گيا ہے -  اس معاہدے کے تحت ايران نے يورينيم کي بيس في صد افزودگي رضاکارانہ طور پر بند کردي ہے اس کے بدلے ميں يورپ نے بھي ايران کے خلاف عائد بعض پابندياں ختم اور بعض ميں نرمي لانے کا آغاز کيا ہے-ليکن اس کے باوجود امريکہ ميں موجود صيہوني لابي نے مذاکرات کے آغاز سے قبل  نفسياتي جنگ کے تحت ايرانو فوبيا اور ايران کے جوہري پروگرام کے بارے ميں افواہوں کا نيا سلسلہ شروع کرديا ہے-امريکي حکام بھي اس بات کي کوشش کر رہے ہيں کہ مذاکرات کے ماحول کو ايسي باتوں سے مکدر کيا جائے جن کا ايران کے جوہري معاملے سے کوئي تعلق نہيں ہے-امريکي حکام ايران کي دفاعي طاقت کے بارے ميں بے بنياد دعوے اور ان دعووں کو مذاکرات کي ميز پر لانے کي کوشش کررہے ہيں-ايران اور پانچ جمغ ايک گروپ کے درميان مذاکرات اب تک بہت سے نشيب و فراز سے گزرے ہيں اور اب ديکھنا يہ ہے کہ ويانا مذاکرات کس حد تک فريقين کو بداعتمادي کي دلدل سے باہر نکالنے ميں کامياب ہوتے ہيں-

.......

/169